ARIF SHAHID KO SHAEED KYON KEYA GAYA

IMG_0623” گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگادو ڈر کیسا 
                        گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں”
                                    عارف شاہد کو شہید کیوں کیاگیا ؟                                  
                  انسان صدیوں کے لئے دنیا میں جینے کےلئے نہیں آیا۔جو بھی پیدا ہوا اُس نے اس 
فانی دنیاسے کوچ ہی کرلینا ہے البتہ انسانی شعور نے جب ارتقائی عمل طےکیا تو
کروڈوں اربوں انسانوں میں چند سو ہی ہونگے جنہوں نے انسان کی پیدایش اور 
اس کی موت پر غور کیا ہوگا ۔اس غوروفکر کی بدولت ہی سب نہیں بلکہ چند سو ہی 
انسانوں کی بہتری کے لئے اشرف المخلوقات کہلائے اور یہی وہ لوگ ہیں جو نہ صرف 
اپنے معاشروں میں سرخرو ہوئے بلکہ پوری انسانیت کے سامنے قابلِ عزت و تعظیم ٹھہرے؟ 
بے شک ان میں سے بہت لوگ متناذعہ بھی بنے اور کچھ کے سامنے جو  ” دہشت گرد ” تھے 
وہ بہتوں کے ہاں حریت پسند اور جو کسی کے سامنے”ایجنٹ ”کہلائے وہ نہ صرف محبِ وطن
ٹھہرے بلکہ قوموں نے اُن کو عظیم ہیرو قرار دیا۔

آج  میرے اس آرٹیکل کا ہیرو بھی ایک ایسا شیفق،دل گداذ،لوگوں کا ہمدرد اور لوگوں کو 
سوچ و نظریاتیغلامی سے آذاد اورپورے جموں و کشمیر کو متحد کرنےاور غلامی سے نجات 
دلانےکے لئے خون رنگ جدوجہد کرنے والا عارف شاہد ہے جس نے اپنے آدرشوں اور اپنے ہم 
وطنوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اپنی جان بھی قربان  کرلی تھی عارف شاہد نے 
سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنی طویل جنگ جیت لی تھی کیونکہ حکومت نے ان کو چار 
سالوں سے  Exist List  لسٹ پر ڈالا تھا۔سپریم کورٹ نے حکومت کی پابندی کو منسوخ
کیا تھا اور عارف شاہد چند دنوں کے بعد ایک ماہ کےلئے بیرونی ممالک کے دورے پر جارہا
تھا مگر تین دن پہلے ہی عارف شاہدکو قتل کردیا گیاجب وہ اپنی گاڈی سے اتر کر گھر کی
طرف جارہا تھاتو ان پر تین گولیاں پروفشنل قاتلوں نے چلائی وہ وہاں پر ہی شہید ہوئےیہ
مئ ۱۳ تاریخ تھی ۔مجھے کھبی بھی 13  تاریخ کھبی بھی منخوس نہیں لگتی تھی مگر اس
حادثے کے بعد میرے لئے یہ تاریخ باقی بہت سارے لوگوں کی طرح ” منخوس” ہی لگنے لگی ہے۔
آج تیسرا سال ھوگیا مگر آج تک اِن تین سالوں میں قاتلوں کا نشان بھی نہیں ملا۔کیسے ملتا
قاتل ؟                      
                          ”ہمیں سے سنتِ و منصور وقیس باقی ہے
                        زنداں زنداں شور اَنالحق محفل محفل قل قل ہے”
عارف شاہد کون تھا؟ کھائی گلہ رولاکوٹ میں پیدا ہوا وہاں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی تو یہ 
اس کو معلوم ہی نہیں کہ کب غمِ روزگار سے آنکھیں لڑی ؟مگر اپنے آپ کو دھران سعودی عرب 
کے ریگستانوں میں  اپنے اور اپنے خاندان کی سانسوں کے رشتوں کو قائم رکھنے کے لئے  
مزدوری کرتے ہوئے پایا۔اندر کے انسان نے غلامی سے نفرت کرنے کی صدا دی۔افضل طاہر 
جیسے حُریت پسند و آذادی کا دیوانہ ملا۔ انھوں نے آگ کی تپش تیز کردی۔ہزاروں لاکھوں 
ہم وطنوں کو جب عرب کے تپ ودق صحرا میں روزی کے لئے نہ صرف دھکے کھاتے ہوئے دیکھا 
بلکہ محنت کی کمائی کے لئے بھی تذلیل سہتے ہوئے پایا تو بغاوت کا جنون اپنی حدوں سے باہر آنے لگا۔
عارف شاہد لبریشن فرنٹ میں اس طرح شامل ہوا کہ عارف شاہد عارف شاہد نہ رہا بلکہ
لبریشن فرنٹ ھوگیا تمام سعودیہ میں کنوینر بنکر نہ صرف سعودیہ میں بلکہ تمام گلف میں 
لبریشن فرنٹ کو منظم کیااور ”چندہ جمع کرنےکی مشین” بنکر امان اللہ خان کے لئے 
سعودی بینک ثابت ہوا۔اپنی آمدنی کا پچاس فی صد بھی پارٹی کی نظر کرتا رہا۔میں اُن دنوں 
لبریشن فرنٹ کو ”آذاد کشمیر” اور پاکستان میں منظم کررہا تھا۔عارف شاہدجب بھی گھر آتا تھا
مجھ سے پاکستان میں نہ صرف ملتا تھا بلکہ ھم کافی دنوں تک اکھٹے رہتے تھے اور کشمیر کے 
بارے میں  وہ ”انتہا پسند”بن گئے تھے؟ ہم جب ریاست میں نشلسٹوں کی حالت پر غور کرتے تھے
تو ہم نااتفاقی،حسد،ایک دوسرے کے خلاف سازشوں اور ” خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں معمولی
مفادات کے ہاتھوں خود مختار مومنٹ کے خلاف کام کرنا” عارف شاہد ہمیشہ اتفاق کی بات کرتا
تھا۔ اس کے اندر اَنا اور کوئی  بھی لالچ وطن کی محبت کے آگے نہ رہی تھی۔

وہ کہتے تھے تم لوگ ہمیں ہندوستان سے آذادی کی  جدوجہد کرنے کے لئے تیار کرتے ہو۔
مگر مجھے یہ بتاو”اس خطے کو جس کو آذاد کشمیر کہتے ہو، اس کو کونسی آذادی حاصل ہے 
نہ سڑکیں ہے،نہ علاج معالجہ کی کوئی سہولیت میسر ہے، ہم لاکھوں لوگ جو سال بھر کی محنت 
کے بعد آرام کرنے کے لئے گھر آتے ہیں ہم سبوں کو اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچوں کے علاج کے لئے 
راولپنڈی اور لاہور کے چکر کاٹنے پڑتے ہے، ہم لوگ پاکستان کو کروڈوں  ڈالر زرمبادلہ کی شکل 
میں فارن ایکس چینج دیتے ہے مگر ہمارے ہاں روزگار کے لئے کوئی فیکٹری یا کوئی اور انڈسٹری 
نہیں لگائی جاتی ہے اور پھر باہر سے گھر آنے پر پاکستان کے ائیر پورٹوں  پر ہمارے ساتھ جو 
سلوک ہوتا ہے اس سے  غلامی کی زلت کا شدید احساس ہوتا ہے۔پھر جب اپنے آقاوں پر نظر پڑتی ہے 
تو یہ ہندوستانی نہیں بلکہ پاکستانی ہے، ہمیں اور گلگت والوں کو پاکستانیوں نے غلام بنایا ہے؟ 
منگلا ڈیم کو بنانے کے لئے لوگوں نے اپنے آبائی مکان ہی نہیں بلکہ اپنے پیاروں کی قبریں بھی ڈیم 
کی نظر کردی مگر یہ وعدہ کرنے کے بعد بھی کہ نہ صرف  منگلا کے پانی سے بننے والی بجلی 
مفت دی جائے گی بلکہ ھم وہاں سے نکلنے والی بجلی کی رایلٹی بھی دینگے، مگرمفت بجلی اور
رائلٹی کی تسلی ہوگئ کاش ہمارے ہاں بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیلڈنگ ہی نہ کرتے۔ ہمارے ہاں لوگ 
دس پندرہ سالوں تک عرب کے ریگستانوں  میں مزدوری کرکے آتے ہیں اور یہ سب مکان اور بچوں 
کی تعلیم اور بیماریوں پر خرچ ھوتا ہے اور آخیر میں ہم کام ڈھونڈنے نکلتے ہے تو کام نہیں ملتا 
کیونکہ پاکستان نے ہمارا ارسال کردہ سارا زرمبادلہ پنجاب اور دوسری جگہوں پر لگایا ھوتا ہے 
اس لئے ہم سب کو پھر سے باہر کام ڈھونڈنے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا کر پھر پردیس جانا
پڑھتا ہے اور یہ سلسلہ ہماری موت تک چلتا ہے اور ہم آخیر می گھر تابوت میں آجاتے ہے” ۔

یہی وہ سچ تھا جس کی بنیاد پر عارف شاہد لبریشن فرنٹ  کا باغی بن گیا۔ وہ یہ مطالبہ کرنے 
لگا کہ” آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہندوستان کے نہیں پاکستان کی غلامی میں ہے ہمارا استصال 
پاکستانی کررہے ہے تو ہمیں یہاں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف لڑنا چاہئے۔ہمیں اسلحہ اور روپیہ 
ایک غاضب سے لیکر دوسرے غاضب کے خلاف  نہیں لڑنا چاہئے کیونکہ یہ آذادی کی جنگ نہیں 
بلکہ ایک غاضب کی مدد کرنا ہی نہیں ھوگا بلکہ یہ تو اپنی غلامی کی زنجیریں مضبوط کرنا ہوگا”  
اورکشمیر مذہبی بنیادوں میں تقسیم ھو گا۔

عارف شاہد کو اس آرٹیکل میں خرآج تحسین پیش ہی نہیں کیا جاتا البتہ اس کی چند پبلک جلسوں 
میں تقریروں کے اقتباسات پیش کرتا ہوںے وہ کہتے ہے
”آج تک ہماری عقل میں یہ بات نہیں آئی کہ جو جہاد کا درس دیتے ہیں ان میں سے پاکستانی جنرلوں 
کےبچے،قاضی حسین کے بچے، حافظ سعد کے بچے امریکہ میں پڑھتے ہے اور مزدور کا بچہ،،دوکاندار 
کابچہ،کسان اور ریڑی والے کا پندرہ اور چودہ سال کے بچے کے لئے جہاد  فرض ہے۔ان بچوں کو دس 
سے پندرہ دنوں کی ٹرینگ دے کر مروانے کے لئے پار دھکیل دیتے ہے۔ اگر جہاد میں اتنی ہی کشش ہے 
اور اتنا ہی ثواب  ہے تو ان جنرلوں کو جانا چاہے جو پاکستان کے قومی بجٹ کا ۸۰٪ فی صد کھاجاتےہے”        

”ہم نے اس جہاد کو کشمیریوں کی آذادی کی جنگ کھبی نہیں سمجھا یہ پہلے دن سے آئی۔ایس آئی 
کی Proxy war  تھی  انڈیا کے ساتھ جس میں  لبریشن فرنٹ استمعال ہوئی ہے۔ جو خود کو ”خود مختار”
کشمر کا دعواء کرتےتھے ”

”ریاست جموں کشمیر کوئی مذہبی جھگڑا نہیں ہے ہم صدیوں سے  ہندو،بودھ، مسلمان،سکھ ہم سب 
اس وطن کے  بیٹے ہیں اور ہم سب کو مذہبی منافرت میں مبتلا کیا ہے۔یہا ن جو جن کو ہیرو بنایا جاتا ہے 
وہ ایجنٹ ہے خفیہ ایجنسیوں کے۔ اُنھوں نے ہی ان کو پروپگنڈے کے ذریعہ لیڈر بنایا”۔

عارف شاہد جیسے لوگ اگر  زندہ قوموں میں پیدا ہوتے تو تعظیم اور عزت اور مثال بنانے کے لئے اُن کے 
بُت جگہ جگہ کھڑے کئے جاتے مگر ان کے نام پر یورپ میں اُن کے ہم وطن اور نوجوان سیاسی پناہ تو 
لے سکتے ہے مگر اُن کی راہ اپنانے میں عزت کی موت مل جائے گی یورپ کی عیاشی نہیں؟ ا ُن کا ایک 
رشتہ دار ہے جو لبریشن فرنٹ میں رہ کر آئی۔ایس ۔آئی کے ساتھ کام کرتا تھا مگر پھر اسی ایجنسی 
کے خلاف یورپ میں سیاسی پناہ لے لی اور دنیا جہاں کا جھوٹ بول کر یورپ کے ایک ملک میں چھ سات 
بچوں سمیت سیاسی پناہ لی ہوئی ہے جو کھبی لبریشن فرنٹ کا بڑا عہدہ دار تھا۔وہ اُس کے بارے میں 
آئی۔ایس۔آئی کا پروپگنڈہ کرتا ہے کہ” عارف شاہد ” ایجنٹ تھا۔ جب تک ہم کشمیر کے لوگ اس بات کا 
اِدراک نہ کریں کہ غلام قوموں کو منتشر اور غلام رکھنے کا یہ قابض قوتوں  کا ایک بڑا ہتھیار ہے تب تک 
ہم آذادی اور خود مختاری کی پہلی اینٹ بھی نہیں رکھ سکتے ہے۔

عارف شاہد پوری زندگی سعودی عرب میں کام کرتا رہا مگر اس نے وطن مستقل واپس آنے سے پہلے اپنا 
کارو بار بھی کھڑا کیا تھا۔جس میں بنجوسہ راولاکوٹ میں ایک ہوٹل بھی تھا۔ہوٹل میں انھوں نے کونٹر 
کے پیچھے اپنی فوٹو رکھی تھی کس نے پوچھا کہ ” لوگ تو کسی بڑے آدمی یا ملک کے فونڈر کی تصویر 
لگاتے ہے مگر آپ نے اپنی لگائی ہے کیوں؟ عارف نے جواب دیا کہ مزدوری میں نے ریگستانوں میں کی اور 
یہ ہوٹل میری محنت سے بنا ہے مجھ سے ذیادہ فوٹو لگانے کا کون حقدار ہوسکتا ہے”

عارف شاہد  بہت سارے یتیموں کی مدد کرتا تھا میری طرح اپنے سیاسی مخالفوں کی بھی مدد کرتا تھا 
عارف شاہد نے کشمیر کی سیاست میں وہ کردکھایا جو آج تک اِدھر یا  اُدھر کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی  
نے نہیں کردیا تھا یعنئ عارف نے اکیس نشنلسٹ سیاسی گروپوں اور پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کرکے
”اپنا” کے نام سے نشلسٹوں کا مضبوط اتحاد کھڑا کیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی اتحاد عارف شاہد 
کے قتل کے لئے آخیری کیل ثابت ہوئی کیونکہ اس اتحاد میں شوکت مقبول بٹ،  وجاہت خان کرنل حسن خان کا 
بیٹا ،پروفیسر خلیق اور بڑے پائے کے نشنلسٹ موجود تھے۔ عارف شاہد جزباتی ہی نہیں تھا وہ دلیل اور منطق سے 
بات کرتا تھا اُنھوں نے چھ سات کتابیں بھی کشمیر کی قومی آذادی پر لکھی ہے وہ دلیل دے کر مخالفوں کو لاجواب 
کرتا تھا اور جیسا کہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ ” دلیل نہیں ہے تو جھگڑا کرلو مار دو” اورعارف کے دلیل کا جواب نہ 
تھا اسی لئے اس کو غاضبوں اور بزدلوں نے مار دیا۔ اور اُسی کے ساتھ ”اپنا” یعنئ آل پارٹی نیشنل الائنس کا اتحاد
بھی اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اِ سی لئے عارف شاہد جیسے اتحاد کے پیام بھر کو قتل کیا گیا تاکہ نشنلسٹ 
متحد نہ ہوسکیں ؟

جس طرح شہید مقبول بٹ کو پھانسی کے پھندے تک ایجنٹ کے ناموں سے پکارتے تھے اسی طرح پروپگنڈے نے 
عارف شاہدجیسے سچ کے سورج پر بادلوں کا سایہ ڈالا ہے مگر میرا وجدان ہی نہیں بلکہ میرا ایمان ہے کہ 
جب ریاست کے لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کا جزبہ پیدا ھوگا اور جب ان کو اپنے وطن سے محبت 
ہوگی تو تمام لوگ زور زور سے پکاریں گے ”عارف ہمارا ہے اور ہم سبوں کو عارف کی طرح وطن کے خاطر قتل کرو”
اورایک بڑی پیشنگوئی یہ کرنا چاہتا ھوں کہ چاہئے لاکھ کشمیر کے سچے نشلسٹوں  کے خلاف دونوں ملکوں کے 
خکمران یا اُ ن کے ضمیر فروش مقامی ایجنٹ،ایجنٹی ایجنٹی کا کھیل کھیلے مگر جیت ان سب عظیم اور محبِ وطن  
انسانوں کی ہی ہوگی جو مادر وطن سے بےلوث محبت کرتے ہے اور جو وطن کے ہر فرد کو چاہے وہ کسی بھی 
مذہب،ذات ،برادری یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو اِس وطن کے باشندے سمجھ کر اُن کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے ہے 
اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ سُدھن قوم بہت بہادر ہے لیکن سوئے ہوئے ہے لیکن جب یہ قوم جاگ اُٹھے گی تو بخدا 
عارف شاہد کے لئے سب پکاریں گے” عارف شاہد ہمارا ہے اور ہمارا تھا” وہ وقت آنے والا ہے۔ سورج کو بادل تھوڈی 
دیر کےلئے چھپا تو سکتے ہے مگر سورج تبوتاب سے آخیر کار طلوع ھوہی جاتا ہے۔

                            ”جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ،وہشان سلامت رہتی ہے 
                              یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جان کی کوئی بات نہیں”
13096268_811312925667844_4727451671730315216_n
                                                            ہاشم قریشی
                                    چیرمین جموں کشمیر ڈیمو کرٹیک لبریشن پارٹی