عقیدت کے پھول

عقیدت کے پھول !
مقبول بٹ کی تٗربت پر ! جو لاکھوں دلوں میں ہیں

پانچ صدیوں کی جدوجہدمیں مقبول بٹ کاثانی کوئی نہیں؟

مغلوں کے کشمیر پر قبضے کے بعد آج تک ہزاروں محبِ وطن وطن کی آذادی کے لئے قربان
ہوتے رہے اور آذادی کی دیوی کے قدموں میں گرم گرم لہو نچھاور کرتے رہے اور نہ جانے کتنے
لوگوں نےتشدد گاہوں اور جیلوں میں سسِک سسِک کر اپنی جانیں تاریک راہوں میں قربان کی؟

ع۔ ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے                                                              ۔ 10306262_608890045910134_5719422388863314351_n

،مگر اُس  فلسفہ ساز،نظریہ ساز،عشق  کی انتہا، نئ سوچ کےخالق،آذادی، انقلاب، عزت
غیرت آبرو، برابری،اور غریب پروری کاغم خورجیساان پانچ صدیوں میں کوئی نہ تھا جس نے
کشمیرکے لوگوں کو،اس جمِ غفیر کو اپنی پہچان  کرائی تھی؟ قوم اور قومیتوں کا درس دیا تھا؟
آذادی کے اصل مہفوم  کی تشرع کی تھی؟آذادی کو جبری قابضوں سے صرف آذادہونا ہی نہیں
بلکہ آذادی کو استصال کے خلاف،ظلم و جبر،تشدد، سامراجیت،اور قبضہ گیروں کےخلاف اعلان
جنگ کا نقارہ قرار دیا تھا اُنھوں نے پاکستان کی نام نہاد عدالت میں گرج کر کہا تھا:

”میں فرسودگی دولت پسندی استحصال غلامی اور منافقت کے خلاف
بغاوت کا مرتکب هوا هوں”

مقبول بٹ! نظریاتی بیماروں اورکوڑھ کے نظریاتی مریضوں کامسیحابنا تھا۔دلوں اوردماغوں میں
انقلاب پیدا کرنےوالے،جزبوں اورسوچوں میں ذلزالہ لانےوالاطوفان بنکر آیا تھا وہ؟آج انقلاب اور
سوشل ازم ،قومی جمہور کی باتیں اور نعرے لگانے والے کہاں تھے اُس وقت جب صرف الحاقیوں
کو ہی حُبِ وطنی کی سرٹیفیکیٹ ملتاتھااور باقی سب غدار کہلاتے تھے؟مسلم کانفرنس میں شامل
نہ ہونے والے کو ”مسلمان” ہی نہیں مانا جاتا تھا؟1526765_742683559197448_532092767762225948_n

اس منجمندالحاق کی بیمارسوچ سے باہر لانےوالے،سقراط،ارسطو،افلاطون اور اناالحق کے وارث
مقبول بٹ جیسے عظیم رہبر اور درویش صفت تو نئ سوچ، نئے خیالات اور نئے نعرے لیکراس قوم
کی پانچ صدیوں کی فالج ذدہ سوچ کا علاج کرنے کے لئے لقمان بنکرآیا تھا؟وہ نفس کےقطب تھے!

آدمیوں کے جِم غفیر کےساتھ اس عظیم انسان کو جو بھی تولتا ہے؟ اُس کے شعور پر، اُس کی
عقل پر اوراُس کے انسان ہونے پر ہی شک کیا جاسکتا ہے؟ہاں یہ سچائی ہے کہ جموں کشمیر کی
دھرتی نے لاکھوں شہید پیدا کئے لیکن اُن میں کتنے تھے جو مقبول بٹ کی طرح آذادی کے جزبوں،
شعور کی بلندیوں  اور وطن کے مکمل اتحاد کے ساتھ آذادی اور استصال کے خلاف شعور پیھلاتے
اور ان آدرشوں کے لئے جنگ لڑتے ہو ئے پھانسی کے پھندے کو چوم کر گلے میں مسکراتے ہوئے قبول
کرتے رہے؟اس انقلاب کے پیغمبر کی عزت کرو تاکہ کل آنے والی نئ نسل تماری عزت تو کریں؟
مقبول بٹ شہید کے گلے میں جو رسی ڈالی گئ وہ اس کے اپنے ساتھیوں نے تیار کی تھی مگر
مقبول بٹ ذندہ باد کے نعرے لگانے والے بہت سارے لوگ یہ سب جانتے ہوئے بھی ان ”قاتل مجاوروں”
کو اپنا ”لیڈر” سمجھتے ہیں؟ کھبی تو حساب ھوگا؟ کھبی تو انصاف ھوگا؟ کھبی تو قاتلوں کے
چہروں سے نقاب تو اُتارا جائے گا؟

مقبول بٹ صرف ایک نعرہ اور ایک فرد نہ تھا؟ وہ تو چلتا پھرتا انقلاب تھا۔ ہر وقت انقلاب کے اُستاد
کے فرائض ادا کرتے تھے۔ وہ صرف چہرےبدلنے اور مقامی لوگوں کے اقتدار منتقل کرنے کو آذادی نہیں
کہتے تھے اُنھوں نے واشگاف اور اعلانیہ کہا تھا:

” آزادی سے هماری مراد صرف کشمیر کی مقدس دهرتی سے غیر ملکی
تسلط کا خاتمہ ہی نهیں بلکۂ بهوک وافلاس جهالت بیماری معاشی اور
سماجی نا همواریوں کو شکست دینا هے ”

کاش تم میں سےکسی ایک کو اس انقلاب کے پیکرکے ساتھ انقلابی جذبےاور وطن سے عشق کرنے
کےپاگل پن کے ساتھ رہنےکا شرف حاصل ہوتا؟قطب اور آسمانوں کے وارثوں کا تقابل نہیں کیا جاتا؟
ذرا سوچو مقبول بٹ کے انقلاب اور اُن کے ںظریہ ان کی جدوجہدسے پہلے ہم کیا تھے؟ کیڑے مکوڑے؟
الحاق جیسی بیمارئ اور کوڑھ کے شکاراور بزدلی کا طعنہ اور لاچاری کا کینسر کہلاتے تھے؟

آج ہم سب وہ لوگ شہید کی موت مر رہے ہیں جو فلسفہ آذادی اور انقلاب کےلۓ اوراستصال کے
خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ ہیں اور مقبول بٹ کے نام لیوا کی حثیت سے مو ت کو گلے لگالینگے؟کوئی تو
اِن پانچ صدیوں میں مقبول بٹ جیسالیڈر اور انقلابی کی کوئی مثال ریاست کی تاریخ میں نکال
کر تو دو ؟جس نےپوری قوم کو غلامی اور الحاق کی غداران و بیمار سوچ سے چند لمحوں میں
آذاد کیا ہو؟ آج تک ریاست میں سبوں نے مذہب،ذات، برادری، علاقہ پرستی اور اُونچ نیچ کی بنیاد پر
لوگوں کو منتشر کیا مگر کشمیر کے اس عظیم سپوت نے بار بار کہا کہ:

” کشمیر کی آذادی جو بھی مذہبی بنیادوں یا ذات و برادری یا اونچ نیچ  و علاقہ پرستی
کی بنیاد پر لڑیں گے وہ کشمیر کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ذمہ دارہونگےایسی کوئی بھی
جدوجہدآذادی کی جدوجہد نہیں بلکہ تقسم در تقسم کرنے کی سازش ہوگی”

اے پیکر وفا! صدیوں کے بعدپیدا ہونےوالےانقلابی! تم نے کشمیریوں کی آنکھوں سے غلامی کا پردہ
چاک چاک کیا! تم نےہم کو غیرت اور عزت کےمعنئ سکھادیۓ! اےنظریہ خود مختار کے فلسفہ ساذ!
تم نےالحاق کے نظریہ ساذوں کے نہ صرف بت توڈ دیۓبلکہ ”مجاہد اور غاذی اور شیر” کہلانے والوں
کے القاب نوچ کے پھینک دئے! تم کو اپنے وطن اور اپنے ہم وطنوں کے ساتھ محبت اور عشق کے بدلے
میں کن کن الزامات کا سامنا کرنا پڑھا! لیکن تم نے اپنے عشق کوکھبی کم نہ کیا! تم نے کہا:

”حق پرستی اور حق شناسی کے دعوے رکهنے والوں کیلے بهترین زندگی وه هے جو
سچاهی کا شعور حاصل کر لے اور اس شعور کی روشنی انفرادی اور اجتماعی
زندگی کی تزهین و آراهش میں صرف هو”

اےحوصلےاورچٹان کے پیکر! تم ” اپنوں” کی ساذشوں کا شکار ہوۓ اور تم آمر ہوۓ ابن علی کیطرح !
تم نے ثابت کیا کہ تم کشمیر کے حسین ابن علی ہو ! تمارے قاتل رسوا ہوۓ بھی اور ہونگے بھی ،
ذرہ میرے اور تیرے عوام کو شعور تو آنے دیں؟ تم جن کو غاصب قرار دیتےتھے؟ تمارےنام کا استصال
کرکےان ہی غاصبوں کے، تیرے قاتل اتحادی بن کر تیرے قوم کو فرقوں، مذہبوں ،ذاتوں، علاقوں اور
برادریوں میں تقسیم کیا گیا؟

اے آذادی اور روشنی کے مینار نور! آج تیرا دیش تقسیم در تقسیم ہوگیا ہے, علاقوں میں، برادریوں میں،
سوچوں میں اورتنظیموں میں اور سب تیرے ” وارث “بھی کہلاتے ہیں؟ جس قتلِ ناحق کے بدلے میں تمیں
انتقاماََ قابض قوت نے پھانسی کا پھندا پہنایا اُس قتل کے بارے میں آپ نے نہ صرف اپنے آپ کو الگ کیا
تھا بلکہ واشگاف لفظوں میں  اپنے آخیری لمحات میں اعلان کیا تھاکہ:

” مجھے اُس جرم کی سزا دی جارہی ہے جو یہاں سے سات ہزار میل دور ہوا ہے”

اے انقلابیوں کی عظیم روح ! تمارے ساتھ ! تماری تربیت ! تمارے جذبوں ! تمارے افکار سے ایسا
محسوس ہوتا تھا کہ تم آج تک پیدا ہونے والے انقلابیوں کی تمام روحوں کو اپنے اندر سموۓ ہوۓ ہو !
تم جب لیکچر دیتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ تم تمام فلسفیوں کے امین ہو!

اے میرے بےلوث رہبر! دکھوں اور ظلمت کے اندھیرے راستوں میں روشنی کے مینار نور !
تم جاہل اور عام انسانوں کو سنگتراشوں کی طرح انقلاب ! انقلاب کے لۓ تراشتے تھے !
تم عظمت کے ایسے مینار ہو جس کی روشنی ہر اندھیرے دلوں کو روشن کرتی ہے!

اےدلوں میں ذندہ رہنے والے منزل کے نشان ! تماری قبر تو نہیں ہے مگر ہر اس دل میں تماری
یاد اور اور انقلابی جذبے ذندہ ہے جو انسانوں اور کمزور طبقوں، مظلوموں پسے ہوۓ لوگوں
کے لۓ جدوجہد کررہے ہیں ! تم ذندہ ہو اور ہر ذمانے میں ذندہ رہو گے !غلاموں کی غلامی کے
خلاف، مظلوموں کی ظالموں کےخلاف نا انصافی اور استصال کے خاتمے کے خلاف جہاں کہیں
بھی جدوجہد جاری رہے گی ! تم ہر اُس جگہ مینارِ نور بن کے رہو گے !

” جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم۔ جو چلے تو جاں سے گزر گئے ہم
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا”

تمارے جذبوں ! تمارے حوصلوں ! تماری محبتوں ! تماری جدوجہد وتماری عظمتوں کو تمارے
وفادار شاگرد کا لاکھوں سلام! لاکھوں سلام! لاکھوں انقلابی سلام !

خود مختار کشمیر،انقلاب زندہ باد ! مقبول بٹ اَمر ہیں!

ہاشم قریشی condolence

جموں کشمیر ڈیموکرٹیک لبریشن پارٹی کے چیرمین بھی ہے