KOKERNAG SAY DAKSUM TAK KI DAIRY

” ککرناگ اور ڈکسوم !

کیسے اور کس زبان سے رب کائنات کا شکر ادا کیا جاۓ؟
جس نےہمیں اسقدر دل کش، خوبصورت اور قدرتی حسن اور
آبشاروں صاف و شفاف پانی سے بل کھاتی ہوئ ندی نالوں
سےنوازا ہیں؟ اے میرے پروردگار میرا روم روم تیرا شکر گزار ہی
نہیں بلکہ قرض دار ہیں کہ تم نے مجھےاس جنت بے نظر کشمیر
میں پیدا کیا ہیں!!! اور میں نےساری زندگی تیری عظمت اور آذادی
کی جنگ میں حصہ لیا اور تیری عزت و آبرو کے لئے تحفظ کے لئۓ
اپنا سب کچھ قربان کرتا رہا !

   دو راتیں ککرناگ میں بسر کی۔ رات کو ٹھنڈ تھی دن کو ڈکسوم کے
اوپر تک چلے گۓ ڈکسوم سے پہلے ایک گاوں آتا ہیں جس کا نام
” ذلن گام ” ہیں جو یسئن ملک کےآبااجداد کاگاوں ہیں۔ آگے کشتواڈ جانے
کا راستہ ہیں مگر سیلاب کی وجہ سے راستہ بند تھا۔آج ہم ککر ناگ سے
” وتنار” کے راستے سے ویری ناگ چلے گۓ اگرچہ راستہ پہاڈی پر چڑھنے
اور پھر اترنے کا ہیں اور راستہ ابھی نیم کچا ہیں مگر وادیاں اس قدر حسین
اور دلکش ہیں کہ روح کی گہرائ تک شادابی محسوس ہورہی تھی۔جگہ جگہ
لوگوں سے وطن کے اتنے بڑے وسائل کے مالک ہونے کے باوجود لوگوں کے تہی دست
ہونے پر بحث ہوتی رہی۔ ککر ناگ سے لیکر ویری ناگ تک کا سارا ایسا علاقہ ہیں
جو جنگلات اور چرہ گاہوں سے بھر پور ہیں اور پانی بہت ہیں میرے اندارے کے
مطابق کم از کم صرف اسی علاقے میں10 لاکھ بیھڑ بکریاں اور 5لاکھ گاۓ اورBull
پالے جاسکتۓ ہیں۔ہم ایک اندازےکے مطابق ہر سال 15 سو کروڈ کا گوشت اور 7 سو
کروڈ سے ذیادہ مرغیاں ریاست سے باہر سے منگواتے ہیں؟ کیا ہم اپنی ہزاروں چراگاہوں
کو sheep اور cattle فارم میں بدل نہیں سکتے؟ اگر آسٹریا، فرانس،سویزرلینڈ ،ہالینڈ
اور ذنمارک و سویڈن جیسے ممالک گوشت،دودھ،مکھن اور دیگر ڈیری کی چیزوں کی
پیداوار سے کھربوں ڈالر کماکر اپنی اقتصادیات کو آسمانوں پر لےجاسکتے ہیں تو
ہمارے پاس اتنے وسائل ہونے کے باوجود ہم بےروذگاری کے ذخم کیوں چاٹتے جارہے ہیں؟
اور سرکاری نوکریوں کے لۓ ہر در پر دستک اور رشوت کیوں دینے پر آمادہ ہیں؟ ہماری پوری
ریاست چراگاہوں سے بھری ہیں مگر غلامانہ ذہینیت نے ہماری سوچوں کو ذہنگ آلود بنایا ہیں

11216100_655006744631797_1589315200_n 11256421_655006531298485_692801070_n 11258970_655007137965091_2014932692_n